Posts

Showing posts from September, 2025
ظالم اور مظلوم کی کہانی رات کے اندھیروں میں جب گاؤں کی کچی گلیوں پر سناٹا چھایا ہوتا تھا تو دور کہیں کتے بھونکتے اور جھینگر اپنی آواز سے ماحول کو مزید ڈراؤنا بناتے۔ اسی گاؤں کے کنارے پر ایک خستہ حال جھونپڑی تھی، جہاں مظلوم حامد اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ حامد کا باپ کئی سال پہلے بیماری سے چل بسا تھا، تب سے غربت نے ان کے دروازے پر مستقل ڈیرہ ڈال لیا تھا۔ حامد دن بھر کھیتوں میں مزدوری کرتا، کبھی کسی کے جانوروں کو چَراتا، اور کبھی لکڑیاں کاٹ کر بازار میں بیچتا تاکہ اپنی بوڑھی ماں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرسکے۔ اس کی آنکھوں میں خواب تو بہت تھے لیکن حالات نے اسے خواب دیکھنے کی مہلت ہی نہ دی تھی۔ اس گاؤں کا دوسرا کردار تھا ظالم جاگیردار سرفراز خان۔ زمینوں کا مالک، بے پناہ دولت کا وارث اور گاؤں کے لوگوں پر راج کرنے والا۔ اس کی بات گاؤں میں قانون سمجھی جاتی تھی۔ اگر وہ کسی پر مہربان ہوجاتا تو وہ شخص دنوں میں خوشحال ہوجاتا، اور اگر اس کی نظر کسی پر جمی رہتی تو وہ شخص برباد ہو جاتا۔ سرفراز خان کو اپنی طاقت کا اتنا غرور تھا کہ وہ کسی کو انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے سمجھتا تھا۔ پہلا موڑ ایک...
❤️ شدتِ عشق – ایک رومانوی کہانی ❤️ حصہ اول: ملاقات کی پہلی جھلک لاہور کی ایک بڑی یونیورسٹی میں سحرش نام کی لڑکی پڑھتی تھی۔ وہ خوشحال خاندان سے تعلق رکھتی تھی، ہر وقت اسٹائلش ڈریسنگ، مہنگا بیگ اور نازک نازک عادات۔ کلاس میں سب کی نظریں اکثر اسی پر جم جاتیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کے دل میں ایک عجیب سا خلا تھا، جیسے کوئی کمی تھی جسے وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ یونیورسٹی سے گھر کا راستہ روزانہ ایک ہی تھا، اور اسی راستے پر اکثر ایک لڑکا دکھائی دیتا۔ وہ گاؤں سے شہر میں مزدوری کرنے آیا تھا۔ نام تھا علی۔ گندمی رنگ، مضبوط بازو، چمکتی آنکھیں اور ایک عجیب سی کشش۔ اس کے کپڑے سادہ مگر شخصیت اتنی پرکشش تھی کہ نگاہیں اس پر ٹھہر جاتیں۔ سحرش نے کئی بار اسے دیکھا مگر کبھی دھیان نہیں دیا۔ مگر ایک دن بارش میں جب وہ یونیورسٹی گیٹ کے قریب پھنسی، علی نے آگے بڑھ کر چھتری تھام لی۔ اس کے لمس کی پہلی شدت نے سحرش کے دل میں ایک انجانی تڑپ جگا دی۔ --- حصہ دوم: دل کی دھڑکنیں بارش کے اس لمحے کے بعد، سحرش کی نظریں اکثر علی کو ڈھونڈنے لگیں۔ علی شرمیلا تھا لیکن جب بھی سحرش اسے دیکھتی، اس کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جیسے وہ سح...
Image
ہیوی واٹر فلڈ 2025 –  پاکستان کی ایک دردناک داستان پاکستان کی تاریخ میں جب بھی بڑے طوفان، زلزلے یا سیلاب آئے ہیں، انہوں نے نہ صرف زمین کے نقشے بدل ڈالے ہیں بلکہ لوگوں کے دلوں پر بھی گہرے زخم چھوڑے ہیں۔ سال 2025 میں آنے والا "ہیوی واٹر فلڈ" بھی انہی آفات میں سے ایک ہے جس نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو یکسر بدل دیا۔ یہ سیلاب صرف بارشوں کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے کئی دہائیوں کی ماحولیاتی تبدیلیاں، ناقص منصوبہ بندی اور انسانی غفلت بھی کارفرما تھی۔ آغازِ طوفان جون 2025 کے مہینے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں غیر معمولی بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پہاڑوں پر برف پگھلنے کی رفتار تیز تھی، گلیشیئرز اپنی جگہ چھوڑ رہے تھے، اور دریائے سندھ و اس کے معاون دریا مسلسل بپھر رہے تھے۔ محکمۂ موسمیات نے بار بار وارننگ دی کہ "ہیوی واٹر فلڈ" آنے والا ہے، لیکن بدقسمتی سے ان وارننگز کو وہ توجہ نہ دی گئی جو ضروری تھی۔ دیہات کے لوگ روزمرہ کی زندگی میں مصروف تھے۔ کھیتوں میں دھان لگایا جا رہا تھا، بچے اسکول جا رہے تھے، اور لوگ اپنی محفلوں میں موسم کی باتیں کر کے ہنستے تھے۔ کسی ک...