ظالم اور مظلوم کی کہانی



رات کے اندھیروں میں جب گاؤں کی کچی گلیوں پر سناٹا چھایا ہوتا تھا تو دور کہیں کتے بھونکتے اور جھینگر اپنی آواز سے ماحول کو مزید ڈراؤنا بناتے۔ اسی گاؤں کے کنارے پر ایک خستہ حال جھونپڑی تھی، جہاں مظلوم حامد اپنی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ حامد کا باپ کئی سال پہلے بیماری سے چل بسا تھا، تب سے غربت نے ان کے دروازے پر مستقل ڈیرہ ڈال لیا تھا۔


حامد دن بھر کھیتوں میں مزدوری کرتا، کبھی کسی کے جانوروں کو چَراتا، اور کبھی لکڑیاں کاٹ کر بازار میں بیچتا تاکہ اپنی بوڑھی ماں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرسکے۔ اس کی آنکھوں میں خواب تو بہت تھے لیکن حالات نے اسے خواب دیکھنے کی مہلت ہی نہ دی تھی۔


اس گاؤں کا دوسرا کردار تھا ظالم جاگیردار سرفراز خان۔ زمینوں کا مالک، بے پناہ دولت کا وارث اور گاؤں کے لوگوں پر راج کرنے والا۔ اس کی بات گاؤں میں قانون سمجھی جاتی تھی۔ اگر وہ کسی پر مہربان ہوجاتا تو وہ شخص دنوں میں خوشحال ہوجاتا، اور اگر اس کی نظر کسی پر جمی رہتی تو وہ شخص برباد ہو جاتا۔ سرفراز خان کو اپنی طاقت کا اتنا غرور تھا کہ وہ کسی کو انسان نہیں بلکہ کیڑے مکوڑے سمجھتا تھا۔


پہلا موڑ


ایک دن کی بات ہے جب حامد کھیت میں ہل چلا رہا تھا تو اچانک جاگیردار کا بیٹا اپنی گاڑی میں وہاں آیا۔ وہ گاڑی کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے غرور بھرے لہجے میں بولا:

“اوے لڑکے! یہ کھیت ہمارا ہے، تجھ جیسے غریب مزدور کی ہمت کیسے ہوئی یہاں ہل چلانے کی؟”


حامد نے لرزتے ہوئے جواب دیا:

“خان صاحب! میں تو محض مزدور ہوں، یہ کھیت آپ ہی کے حکم پر کاشت کررہا ہوں۔”


جاگیردار کا بیٹا قہقہہ لگاتا ہوا بولا:

“یاد رکھ، تم لوگوں کی حیثیت صرف نوکری کرنے کی ہے۔ کبھی سر اٹھانے کی کوشش کی تو انجام برا ہوگا!”


یہ کہہ کر وہ گاڑی میں بیٹھا اور گرد اڑاتا ہوا نکل گیا۔ حامد کے دل میں ایک آگ سی دہک اٹھی، مگر غربت کی زنجیریں اتنی بھاری تھیں کہ وہ صرف آسمان کی طرف دیکھ کر اپنی بے بسی کا رونا رو سکتا تھا۔


دوسرا موڑ


گاؤں میں ایک میلہ لگا۔ میلے میں سرفراز خان کی بیٹی عالیہ بھی اپنی سہیلیوں کے ساتھ آئی۔ عالیہ پڑھی لکھی، نرم دل اور اپنے باپ کی سختیوں سے بے خبر لڑکی تھی۔ میلے میں اچانک اس کی نظر حامد پر پڑی، جو لکڑیاں بیچ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر پسینے کے قطرے، مگر آنکھوں میں عزم کی روشنی تھی۔


عالیہ کے دل میں پہلی بار احساس جاگا کہ یہ غریب لوگ بھی انسان ہیں، ان کے بھی خواب اور جذبات ہوتے ہیں۔ وہ کئی دن تک اس سوچ میں گم رہی۔ آخرکار اس نے حامد سے بات کرنے کی ہمت کی۔


ایک دن وہ کھیتوں کی طرف آئی جہاں حامد کام کر رہا تھا۔

“السلام علیکم،” عالیہ نے دھیمی آواز میں کہا۔

حامد نے حیرت سے پلٹ کر دیکھا اور گھبرا کر سلام کا جواب دیا۔

“تم روز یہاں کام کرتے ہو؟” عالیہ نے سوال کیا۔

“جی بی بی جی… روزی کا یہی سہارا ہے۔”


دونوں کے درمیان بات چیت کا یہ پہلا لمحہ تھا، مگر یہ چھوٹی سی گفتگو آگے چل کر ایک کہانی کی بنیاد بن گئی۔


تیسرا موڑ


عالیہ اکثر موقع تلاش کرکے حامد سے بات کرنے آتی۔ آہستہ آہستہ ان کے دل ایک دوسرے کے قریب آنے لگے۔ لیکن یہ تعلق کسی قیامت سے کم نہ تھا، کیونکہ اگر سرفراز خان کو خبر ہوجاتی تو حامد کی زندگی ایک پل میں ختم کردی جاتی۔


ایک دن عالیہ نے حامد سے کہا:

“میں چاہتی ہوں کہ تم اپنی تعلیم مکمل کرو، میں تمہاری مدد کروں گی۔ تم میں وہ صلاحیت ہے جو ہمارے گاؤں کے کسی اور میں نہیں۔”


حامد نے دھیرے سے کہا:

“بی بی جی، آپ کے یہ الفاظ میرے لیے روشنی ہیں، مگر آپ جانتی ہیں کہ اگر خان صاحب کو معلوم ہوگیا تو…”


عالیہ نے بات کاٹ دی:

“اگر تم ہمت کرو تو میں سب کچھ برداشت کرنے کو تیار ہوں۔”


ظالم کا وار


بدقسمتی سے گاؤں کے ایک آدمی نے عالیہ اور حامد کو بات کرتے دیکھ لیا اور جا کر سرفراز خان کو خبر دے دی۔ سرفراز خان کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔


“میرے خاندان کی عزت کو ایک غریب مزدور نے للکارا ہے؟!” وہ دھاڑا۔


اس نے اپنے آدمیوں کو حکم دیا کہ حامد کو پکڑ کر حویلی میں لایا جائے۔

رات کو جب حامد اپنی جھونپڑی میں سو رہا تھا تو چند غنڈے دروازہ توڑ کر اندر گھسے، اسے رسیوں میں باندھ کر گھسیٹتے ہوئے حویلی لے گئے۔


حویلی میں سرفراز خان نے غصے سے چیختے ہوئے کہا:

“کمینے! تیری جرات کیسے ہوئی میری بیٹی سے بات کرنے کی؟”

حامد خاموش رہا۔

“بول ورنہ ابھی گولی مار دوں گا!”

حامد نے آخرکار کہا:

“خان صاحب! میں نے کبھی آپ کی عزت کو نقصان پہنچانے کا سوچا بھی نہیں۔ ہم صرف انسانیت کی بات کرتے تھے۔”


یہ سن کر سرفراز خان نے اسے کوڑوں سے مروانا شروع کردیا۔ خون بہنے لگا، مگر حامد کی آنکھوں میں عجیب سی روشنی تھی۔ وہ بار بار کہتا رہا:

“میں مظلوم ہوں، مگر سچ بولنے سے باز نہیں آؤں گا۔”


انجام


عالیہ یہ سب سن کر


Comments

Popular posts from this blog

A hot story