اندھیرے پانی کی کہانی پہلا حصہ: خوشیوں کا گاؤں سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں عائشہ اپنے والدین اور دو بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ گاؤں اگرچہ پسماندہ تھا مگر محبت، بھائی چارے اور محنت کی خوشبو سے مہکتا تھا۔ عائشہ کے والد ایک کسان تھے، جو دن رات کھیتوں میں کام کرتے۔ گاؤں کے لوگ کھیتوں اور مویشیوں پر ہی انحصار کرتے تھے۔ گاؤں کی زندگی کی اپنی سادگی تھی۔ شام کو جب کھیتوں سے سب لوگ لوٹتے تو مسجد کے صحن میں بیٹھ کر دن بھر کی باتیں کرتے۔ بچے گلیوں میں کھیلتے اور عورتیں صحنوں میں بیٹھی ہوئی چرخہ کاتتیں یا کھانے پکا کر دوسروں کو بھیج دیتیں۔ عائشہ اکثر اپنی ماں کے ساتھ کھیتوں میں جاتی۔ وہ ننھی سی لڑکی اپنی معصوم آنکھوں سے لہلہاتے کھیت دیکھتی اور خواب دیکھتی کہ ایک دن پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بنے گی تاکہ اپنے گاؤں کے بیمار لوگوں کا علاج کر سکے۔ ماں ہنستی اور کہتی: “بیٹی! تمہارا خواب ضرور پورا ہوگا، بس اللہ پہ بھروسہ رکھو۔” یہ خوشیوں بھری زندگی تھی۔ مگر ان سب کو اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی کائنات کو بہا لے جائیں گے۔ دوسرا حصہ: بارش کی پہلی بوند جون کے مہینے کی ایک شام تھی۔ گاؤں کے اوپر سیا...