اندھیرے پانی کی کہانی
پہلا حصہ: خوشیوں کا گاؤں
سندھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں عائشہ اپنے والدین اور دو بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی۔ گاؤں اگرچہ پسماندہ تھا مگر محبت، بھائی چارے اور محنت کی خوشبو سے مہکتا تھا۔ عائشہ کے والد ایک کسان تھے، جو دن رات کھیتوں میں کام کرتے۔ گاؤں کے لوگ کھیتوں اور مویشیوں پر ہی انحصار کرتے تھے۔
گاؤں کی زندگی کی اپنی سادگی تھی۔ شام کو جب کھیتوں سے سب لوگ لوٹتے تو مسجد کے صحن میں بیٹھ کر دن بھر کی باتیں کرتے۔ بچے گلیوں میں کھیلتے اور عورتیں صحنوں میں بیٹھی ہوئی چرخہ کاتتیں یا کھانے پکا کر دوسروں کو بھیج دیتیں۔
یہ خوشیوں بھری زندگی تھی۔ مگر ان سب کو اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن ان کی کائنات کو بہا لے جائیں گے۔
دوسرا حصہ: بارش کی پہلی بوند
جون کے مہینے کی ایک شام تھی۔ گاؤں کے اوپر سیاہ بادل چھا گئے۔ لوگ خوش ہوئے کہ بارش فصلوں کے لیے رحمت ہے۔ تیز ہوا کے ساتھ بارش شروع ہوئی اور زمین کی پیاس بجھنے لگی۔ بچے بارش میں نہا کر کھیلنے لگے۔
لیکن یہ بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ ایک دن، دو دن، پھر مسلسل ہفتہ بھر بارش ہوتی رہی۔ زمین پانی سے بھر گئی۔ کھیت جھیلوں کا منظر پیش کرنے لگے۔ ندی نالے ابلنے لگے۔
تیسرا حصہ: بڑھتے پانی کا خوف
ایک رات خبر آئی کہ دریائے سندھ کا بند ٹوٹ گیا ہے اور پانی تیزی سے گاؤں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی گاؤں میں چیخ و پکار مچ گئی۔ عورتیں سامان سمیٹنے لگیں، مرد بچوں اور بوڑھوں کو محفوظ جگہ پہنچانے کی کوشش کرنے لگے۔
عائشہ کی ماں نے چند کپڑے اور قرآن شریف کو کپڑے میں لپیٹا اور سینے سے لگا لیا۔ اس کے والد کھیتوں کی طرف دوڑے تاکہ مویشیوں کو بچا سکیں۔ لیکن پانی کے ریلے نے سب کچھ بہا دیا۔ بیل، بھینسیں اور بکریاں لمحوں میں ڈوب گئیں۔
بچوں کو اونچے ٹیلے پر لے جایا گیا۔ مگر پانی اتنی تیزی سے بڑھ رہا تھا کہ ٹیلے بھی چھوٹے پڑ گئے۔ عائشہ اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے رو رہی تھی۔ اس کے ننھے بھائی خوف سے کانپ رہے تھے۔ ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔
چوتھا حصہ: اجڑتے گھر
صبح تک گاؤں کا منظر بدل چکا تھا۔ جہاں کل تک سبز کھیت لہلہاتے تھے، آج وہاں پانی کا سمندر پھیلا تھا۔ کچے مکان مٹی کی طرح ٹوٹ کر گر گئے تھے۔ جو گھر پکے تھے وہ بھی پانی میں ڈوب گئے۔
لوگ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی کو آنکھوں کے سامنے ڈوبتا دیکھ رہے تھے۔ کوئی عورت اپنی چارپائی کو پکڑ کر چیخ رہی تھی، کوئی بچہ اپنے کھلونے ڈھونڈ رہا تھا۔
عائشہ کے والد نے گاؤں کے کچھ لوگوں کے ساتھ کشتی کا انتظام کیا، مگر کشتی کم اور متاثرین زیادہ تھے۔ لوگ چیختے، دھکے دیتے اور ایک دوسرے پر چڑھنے کی کوشش کرتے۔ پانی میں کئی بچے اور عورتیں ڈوب گئیں۔
پانچواں حصہ: پناہ گزینوں کا کیمپ
دو دن بعد فوج اور ریسکیو ٹیمیں پہنچیں۔ کچھ لوگوں کو کشتیاں ڈال کر محفوظ جگہوں پر منتقل کیا گیا۔ عائشہ کا خاندان بھی ہزاروں دوسرے لوگوں کے ساتھ ایک ریلیف کیمپ میں آ گیا۔
ک

Comments
Post a Comment