ایک ادھوری محبت کی کہانی



شام کے دھندلکے میں جب سورج آہستہ آہستہ پہاڑوں کے پیچھے چھپ رہا تھا تو فضا میں ایک عجیب سا سکون پھیل گیا تھا۔ ہوا میں ہلکی سی ٹھنڈک اور پرندوں کی چہچہاہٹ کسی نامعلوم کہانی کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔ وہ کہانی جو شاید صدیوں سے دلوں میں چھپی ہوئی ہے، مگر کبھی لفظوں میں ڈھل کر سامنے نہیں آئی۔

یہ کہانی علی اور مریم کی ہے۔ دو ایسے کرداروں کی جو بچپن سے ایک دوسرے کو جانتے تھے مگر وقت نے انہیں الگ الگ راستوں پر ڈال دیا۔


پہلی ملاقات

علی اور مریم ایک ہی محلے میں رہتے تھے۔ مریم ایک نہایت سلجھی ہوئی، شرمیلی اور کتابوں سے محبت کرنے والی لڑکی تھی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجب کشش تھی، جیسے کوئی ان میں ڈوب جائے تو پھر باہر نہ نکل سکے۔ علی شرارتی مگر حساس دل رکھنے والا لڑکا تھا۔ وہ ہر وقت مسکراتا رہتا اور دوسروں کو ہنسانا جانتا تھا۔

بچپن کے دنوں میں علی اکثر مریم کو تنگ کرتا، اس کی کتابیں چھپا دیتا، یا کبھی اس کے ساتھ کھیلتے کھیلتے جھگڑ لیتا۔ مگر جیسے جیسے وہ بڑے ہونے لگے، ان کے درمیان ایک ان کہا رشتہ پروان چڑھنے لگا۔


محبت کی پہلی کرن

کالج کے دنوں میں علی کو پہلی بار احساس ہوا کہ اس کے دل میں مریم کے لیے کچھ الگ جذبات ہیں۔ وہ جب بھی مریم کو دیکھتا، اس کا دل بے قابو ہو جاتا۔ مریم کی مسکراہٹ علی کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی چیز تھی۔

ایک دن لائبریری میں علی نے ہمت کرکے مریم سے کہا:
"مریم، کیا تمہیں کبھی ایسا لگا ہے کہ کچھ باتیں الفاظ سے زیادہ آنکھوں سے کہی جاتی ہیں؟"

مریم نے حیران ہو کر اسے دیکھا، پھر ہلکی سی مسکرا کر بولی:
"شاید۔ لیکن کچھ باتیں نہ کہنا ہی بہتر ہوتا ہے۔"

علی کو اس دن پہلی بار احساس ہوا کہ مریم بھی اس کی خاموشیوں کو سمجھتی ہے۔


جدائی کا لمحہ

وقت گزرتا گیا۔ علی نے اپنے خواب پورے کرنے کے لیے شہر چھوڑ دیا۔ وہ انجینئرنگ کی پڑھائی کے لیے دوسرے شہر چلا گیا۔ مریم نے بھی اپنی تعلیم جاری رکھی۔

دونوں کے درمیان رابطہ کم ہوتا گیا۔ فون پر کبھی کبھار بات ہو جاتی، مگر زندگی کی مصروفیات نے انہیں دور کر دیا۔ علی کئی بار سوچتا کہ مریم سے اپنے دل کی بات کہہ دے، مگر وہ ڈرتا تھا کہ کہیں یہ رشتہ ٹوٹ نہ جائے۔

ادھر مریم کے والدین نے اس کے لیے رشتے دیکھنے شروع کر دیے۔ مریم خاموشی سے سب سنتی، مگر اس کے دل میں علی کی یاد کسی خوشبو کی طرح بسی ہوئی تھی۔


دوبارہ ملاقات

کئی سال بعد، ایک شادی میں علی اور مریم کی ملاقات ہوئی۔ وقت نے دونوں کو بدل دیا تھا۔ علی اب ایک کامیاب انجینئر تھا، مگر اس کی آنکھوں میں وہی بچپن کی شرارت اور محبت جھلک رہی تھی۔ مریم اور زیادہ سنجیدہ اور باوقار لگ رہی تھی۔

شادی کی ہلچل کے بیچ جب ان کی نظر ملی تو لمحہ بھر کو سب کچھ رک سا گیا۔ جیسے وقت واپس پلٹ گیا ہو۔

علی نے موقع پا کر مریم سے کہا:
"کیا تمہیں یاد ہے، ہم کبھی گھنٹوں یونہی بیٹھ کر بات کیا کرتے تھے؟"

مریم نے دھیرے سے جواب دیا:
"ہاں، مگر وقت اب ویسا نہیں رہا علی۔ کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں پار نہیں کیا جا سکتا۔"


محبت کا اعتراف

علی نے اس دن فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی محبت چھپا کر مزید نہیں جی سکتا۔ اگلے دن اس نے مریم کو ایک پرسکون جگہ بلایا۔

"مریم، میں تمہیں برسوں سے چاہتا ہوں۔ یہ احساس بچپن سے میرے ساتھ ہے، مگر میں نے کبھی ہمت نہیں کی کہ کہہ سکوں۔ کیا تم میرے ساتھ زندگی گزارنا چاہو گی؟"

مریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ لرزتی ہوئی آواز میں بولی:
"علی، کاش تم یہ بات پہلے کہہ دیتے۔ میرے والدین نے میرا رشتہ طے کر دیا ہے۔ میں انکار نہیں کر سکتی۔"

علی پر یہ الفاظ بجلی بن کر گرے۔ اسے لگا جیسے اس کی دنیا بکھر گئی ہو۔


ادھوری محبت

وقت اپنے راستے پر چلتا رہا۔ مریم نے اپنے والدین کی مرضی سے شادی کر لی۔ علی خاموشی سے اس کی خوشیوں کے لیے دعا کرتا رہا۔

وہ اکثر سوچتا کہ محبت کبھی مکمل ہونا ضروری نہیں۔ بعض اوقات محبت صرف دل میں زندہ رہتی ہے، اور وہی کافی ہوتی ہے۔

علی نے اپنی زندگی کو نئے خوابوں کے ساتھ آگے بڑھایا، مگر مریم کی یاد اس کے دل کے کسی کونے میں ہمیشہ زندہ رہی۔

مریم بھی اپنی نئی زندگی میں مصروف ہو گئی، مگر جب کبھی وہ تنہائی میں بیٹھتی، علی کی مسکراہٹ اس کے ذہن میں روشن ہو جاتی۔


انجام

سالوں بعد، جب علی اور مریم دونوں اپنی اپنی زندگیاں گزار رہے تھے، تو ایک دن وہ اچانک ایک کتابوں کی دکان پر مل گئے۔

وقت نے ان کے چہروں پر جھریاں ڈال دی تھیں، مگر آنکھوں میں وہی پرانی روشنی تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور بس مسکرا دیے۔

کوئی لفظ نہیں بولا گیا، کیونکہ اب الفاظ کی ضرورت نہیں تھی۔ دونوں جانتے تھے کہ ان کے دلوں میں ایک ایسا رشتہ ہے جو وقت، فاصلے اور حالات کے باوجود کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔؟

Comments

Popular posts from this blog

A hot story